دھوکے اور جعلسازوں سے ہوشیار رہیں

Release Date:
October 4, 2021

کسی آفت کے بعد جعل ساز، شناخت چُرانے والے اور دیگر جرائم پیشہ افراد اکثر آفت کے متاثرین سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہنگامی انتظام سے متعلق وفاقی و ریاستی حکام شہریوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسی کسی مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھیں اور اس کی اطلاع دیں۔

بد دیانت افراد  خود کو آفات میں لوگوں کی مدد کرنے والے سرکاری کارکن ظاہر کر کے غیرمحفوظ اور کمزور متاثرین سے ناجائز فائدہ لینے کی کوشش کر سکتے ہیں یا ایسا تاثر بھی دے سکتے ہیں کہ وہ متاثرین کے رشتہ دار ہیں اور انہیں امداد کے لیے دی جانے والی درخواستوں کی تکمیل میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

کسی آفت کے بعد دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیاں درج ذیل ہو سکتی ہیں:

ریاستی یا وفاقی امداد کی جھوٹی پیشکش: وفاقی اور ریاستی کارکن امداد کے عوض نہ تو متاثرین سے رقم کی ادائیگی کے لیے کہتے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی رقم قبول کرتے ہیں۔  ایف ای ایم اے اور چھوٹے کاروباروں سے متعلق امریکی انتظامیہ کے اہلکار درخواست گزاروں سے آفت کے بعد بحالی، آفت سے متاثرہ مقامات کے معائنے یا درخواستیں مکمل کرنے میں مدد دینے کے عوض کبھی کوئی رقم نہیں لیتے۔

گھروں کے جعلی معائنہ کار: جب کوئی آفت آتی ہے تو درخواست گزاروں کو گھروں کے جعلی معائنہ کاروں کے ہاتھوں لُٹنے کا خدشہ ہوتا ہے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایف ای ایم اے کے نمائندے ہیں اور گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ اگر متاثرین کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے تو ان سے معائنہ کاروں کی مخصوص شناختی علامت طلب کی جائے۔ ایف ای ایم اے کے تمام اہلکاروں اور ٹھیکہ داروں کے پاس ورق بند سرکاری تصویری شناخت ہو گی۔ گھروں کا معائنہ کرنے کے لیے آنے والوں کے پاس ہر درخواست گزار کا نو ہندسوں پر مشتمل ایف ای ایم اے رجسٹریشن نمبر ہوتا ہے۔ لوگوں کے گھروں کا معائنہ کرنے والے اہلکار درخواست گزاروں سے رابطے کے لیے بات چیت کے مختلف طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ معائنہ کار سرکاری ٹیلی فون یا اپنے نجی فون کے ذریعے متاثرین سے بات کر سکتے ہیں تاکہ درخواست گزار مختلف مختلف ایریا کوڈ سے کال وصول کر سکیں۔ معائنہ کار درخواست گزاروں کی جانب سے ایف ای ایم اے کو دی گئی درخواستوں میں مہیا کردہ رابطے کی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں موبائل فون پر تحریری پیغام اور ای میل بھی بھیج سکتے ہیں۔ تاہم یہ اہلکار گھروں کے معائنے کے عوض رقم کا تقاضا کبھی نہیں کرتے۔

ایسے مواقع بھی آ سکتے ہیں جب ایف ای ایم اے کے نمائندے کو آپ کی نجی معلومات کی تصدیق کے لیےآپ سے  رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کو چاہیے کہ نمائندے سے اس کا ایف ای ایم اے شناختی نمبر پوچھیں۔ اگر آپ کو فون کرنے والے کی جانب سے بتائی گئی شناخت پر یقین نہ ہو یا آپ کسی ایسے شخص کی اصلیت کے بارے میں شکوک کا شکار ہوں جو خود کو ایف ای ایم اے کی جانب سے بھیجا گیا معائنہ کار قرار دیتا ہو تو 800-621-3362 (711/VRS) پر ایف ای ایم اے کی ہیلپ لائن سے مدد لیں۔ یہاں  ٹیلی فون کے ذریعے ہفتے کے ساتوں دن صبح 8 سے شام 7 بجے تک رابطہ ممکن ہے اور آپریٹر آپ کی ایسے ماہر سے بات کروا سکتے ہیں جو آپ سے اسی زبان میں بات کرے گا جو آپ بولتے ہیں۔ اگر آپ گونگے بہروں کے لیے ویڈیو کے ذریعے بات چیت کی مخصوص سہولت یا ٹیلی فون پر سماعت میں دشواری کا سامنا کرنے والوں کے لیے مخصوص سہولت یا ایسی دیگر سہولیات استعمال کرتے ہیں تو ایف ای ایم اے کو اس سہولت کا نمبر مہیا کیجیے۔

جعلی سرکاری اہلکار: کوئی جعلساز خود کو آفات میں مدد دینے والا سرکاری اہلکار ظاہر کر کے بھی آپ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی خدمات کے عوض آپ سے رقم طلب کریں گے۔ آفات سے بحالی میں مدد دینے والے وفاقی، ریاستی اور مقامی کارکن نہ تو اپنے کام کا کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی رقم قبول کرتے ہیں۔ آفات سے بحالی کے شعبے سے متعلق وفاقی ملازمین لوگوں کو آفات سے بحالی کے لیے مالی مدد کی فراہمی کا وعدہ بھی نہیں کرتے۔

جعلی خیراتی مہمات: اچھی ساکھ کے حامل خیراتی اداروں کی ''بیٹر بزنس بیورو'' کے ''وائز گیِونگ الائنس'' سے منظور شدہ فہرست give.org پر دستیاب ہے۔ جرائم پیشہ عناصر ای میل اور سوشل میڈیا کے ذریعے متاثرین سے دھوکہ دہی پر مبنی گفت و شنید کے ذریعے اور خیرات اکٹھی کرنے کی غرض سے جعلی ویب سائٹس تخلیق کر کے اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرتے ہیں۔

الائنس سفارش کرتا ہے کہ: ''غیرمطلوب ای میل کا جواب مت دیں۔ بالاصرار اپنی خدمات پیش کرنے والی ٹیلی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ایسے جعلی خیراتی اداروں سے ہوشیار رہیں جو کسی اور ادارے سے ملتا جلتا نام استعمال کرنے کے باعث بظاہر حقیقی دکھائی دیتے ہیں۔''خیراتی اداروں کی صورت میں جعلسازی سے بچنے کے لیے مزید معلومات کے لیے وفاقی تجارتی کمیشن کی ویب سائٹ پر جعلسازی سے متعلق انتباہات دیکھیے۔

کرائے کے گھروں سے متعلق جعلسازی: وفاقی تجارتی کمیشن کے پاس یہ معلومات موجود ہیں کہ گھر کرائے پر دینے کے نام پر کیسے جعلسازی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جعلساز جانتے ہیں کہ لوگوں کے لیے اچھا اپارٹمنٹ یا چھٹیاں گزارنے کے لیے کرائے کی مناسب جگہ ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا اس لیے اگر کوئی انہیں بظاہر بہت اچھی پیشکش کر رہا ہو تو اسے نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کرائے کے گھروں سے متعلق جعلسازی کے بارے میں مزید جانیے۔

غیرمنظور شدہ/ غیربیمہ شدہ ٹھیکہ داروں سے ہوشیار رہیں: عام طور پر کسی قدرتی آفت کے بعد بعض افراد خود کو منظور شدہ ٹھیکہ داروں کے طور پر پیش کریں گے۔ ایسی صورت میں ان سے حوالہ جات طلب کیے جائیں، پیشگی ادائیگیوں میں احتیاط کی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ ان ٹھیکہ داروں کے پاس لائسنس اور موزوں اجازت نامے موجود ہیں۔ اپنے گھر کی مرمت کے لیے کسی ٹھیکہ دار کی خدمات لینے سے پہلے یہ دیکھیں کہ آیا اس ٹھیکہ دار کے پاس کام کا اجازت نامہ موجود ہے اور کیا اس کا نام آپ کے علاقے میں رجسٹرڈ ہے:

اگر آپ کسی دھوکے، ضیاع یا ناجائز کام سے آگاہ ہیں تو آپ اس بارے میں ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت قدرآتی آفات سے بحالی کے عمل میں دھوکہ دہی سے نمٹنے کے لیےقائم کردہ  ایف ای ایم اے کی ہیلپ لائن 8660720-5721 پر اطلاع دیں یا Disaster@leo.gov پر ای میل کریں۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ خود یا آپ کا کوئی عزیز کسی جعلسازی کا شکار ہو چکا ہے یا اس کی شناخت چوری کی گئی ہے تو فوری طور پر اپنی مقامی پولیس یا شیرف کے محکمے کو اطلاع دیں یا ریاست نیویارک کے اٹارنی جنرل کے دفتر سے رابطہ کریں۔

مقامی لوگوں کی مخصوص ضروریات کی تکمیل میں مدد دینے والے اداروں سے رجوع کرنے کے لیے 211پر کال کیجیے یا  https://www.211nys.org/contact-us پر  اپنے قریب ترین 211 کاؤنٹس پر رابطہ کیجیے۔ اگر آپ نیویارک سٹی کے رہائشی ہیں تو 311 پر کال کریں۔

نیویارک میں آنے والے طوفان ایڈا کے بعد بحالی کی کوششوں سے متعلق تازہ ترین معلومات جاننے کے لیے www.fema.gov/disaster/4615 پر وزٹ کیجیے۔ twiter/com/femaregion2 اور www.facebook.com/fema پر ہمیں فالو کیجیے۔

Tags:
Last updated October 6, 2021